کیبنٹ مشن پلان کی منظوری کی قرارداد

۶ جون ۱۹۴۶ء کو بمقام دھلی آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل نے برطانوی وزارتی مشن کی تجاویز پر فیصلہ کرنے کیلئے ایک اجلاس طلب کیا۔  اس اجلاس میں کیبنٹ مشن کی تجاویز کو قبول کرتے ہوئے ایک مفصل قرارداد  منظور کی گئی جس میں وہ وجوہات بیان کی گئیں جو ان تجاویز کی منظوری کا سبب بنیں۔ اجلاس کی کاروئی شروع ہوئی تو قایدِ اعظم نے کونسل کے اراکین سے خطاب کیا۔ اس سے قبل وہ  ۲۲   مئی ۱۹۴۶ ء کو وزارتی مشن کی تجاویز پر ایک بیان جاری کرچکے تھے ۔ اپنے بیان  میں قاید اعظم نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ  کیبنٹ مشن نے ایک خود مختار مملکتِ پاکستان کا مطالبہ رد کردیا ہے جو  ہم سمجھتے ہیں کہ نہ صرف آئینی مسائل کا واحد حل ہے بلکہ ایک مستحکم حکومت کا  ضامن بھی ہے جو برصغیر میں آباد تمام قومیتوں  کی خوشیوں اور فلاح کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ وزارتی مشن کی تجاویز میں غیر مناسب زبان کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کی خوشنودی اور مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی ہے۔  اگرچہ مشن کے سامنے وہ حقایق موجود تھے جن کا اظہار انہوں نے مشن کے بیان میں کیا ہے۔

قایدِ اعظم نے اپنے بیان میں کیبنٹ مشن کے  پلان کے کچھ نکات کا تذکرہ کرتے ہوئےان تجاویز کو بیان کیا جو مسلم لیگ نے ان نکات کی جگہ مشن کے سامنے رکھی تھیں مگر مشن نے اپنے پلان میں انہیں شامل نہیں کیا۔  انہوں نے کہا کہ   مشن کے پلان کے یہ نکات یونین کے اس تصور سے ہٹ کر ہیں جن میں مرکز کے پاس صرف تین شعبہ جات ہونے چاہئیے تھے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل سے قایدِ اعظم کا خطاب :

  برطانوی وزارتی مشن کے اعلان کردہ منصوبے پر فیصلہ کرنے کیلئے منعقد کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے کہا،

میں نے آپ کو کرپس مشن اور شملہ کانفرنس کی تجاویز کو مسترد کرنے کا مشورہ دیا مگر میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ برطانوی وزارتی مشن کے منصوبے کو قبول کرلیں۔ قایدِ اعظم نے کہا، ” قراردادِ لاہور کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب مسلمان اپنا مطالبہ پیش کریں تو وہ ایک مرتبہ میں قبول کرلیا جائے۔ یہ ایک بڑی اور مسلسل جدوجہد ہے۔ پہلی جدوجہد لیگ کے نمائندہ کردار کو قبول کرنے کی تھی۔ یہ لڑائی انہوں نے نہ صرف شروع کی بلکہ یہ لڑائی وہ جیت چکے ہیں۔  وزارتی مشن کی تجاویز کی قبولیت سے پاکستان کی جدوجہد کا خاتمہ  نہیں ہوا۔ انہیں حصول پاکستان تک  اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔“

قایدِ اعظم نے کہا کہ اگر ان کی خواہشات کے خلاف کچھ بھی کیا گیا تو وہ آئین ساز اسمبلی میں تعطل پیدا کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے مقصد کے لئے آئین ساز اسمبلی میں لڑتے رہیں گے۔ وہ اس گروپ میں دوبارہ شامل ہونے کے لئے یونٹوں یا گروپوں کے حق کے لئے بھی لڑیں گے جہاں سے وہ الگ ہوگئے تھے۔ گروپ بندی کے سلسلے میں قایدِ اعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گروپس کے پاس دفاع ، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ ، تمام شعبوں کااختیار ہونا چاہئے۔ لیکن جہاں تک دفاع کا تعلق ہے ، جب تک نیا آئین نافذ نہیں ہوتا اس وقت تک یہ انگریزوں کے ہاتھ میں رہے گا،      لہذا انہیں اب اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ “مواصلات” کو صرف دفاع تک محدود رکھنے کے لئے آئین ساز اسمبلی میں لڑیں گے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا اجلاس منعقدہ ۶  جون ۱۹۴۶ ء   : کیبنٹ مشن پلان کی منظوری کی قرارداد

۶ جون ۱۹۴۶ء کو کونسل آف آل انڈیا مسلم لیگ نے ایک قرارداد کی منظوری دی جس کے  تحت کیبنٹ مشن پلان کی منظوری دی گئی۔ کونسل نے قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے کیبنٹ مشن پلان سے منسلک تفصیلی بیانات کا ذکر کرتے ہوئے  یہ  واضح کیا کہ ۱۶ مئی  ۱۹۴۶ ء کو کیبنٹ مشن  اور وائسرائے ہند نے جو بیان جاری کیا ہے اور اس کے ساتھ جو دستاویزات منسلک کی ہیں اس کے متعلق عوامی اور ورکنگ کمیٹی کی رہنمائی کیلئے ریکارڈ پر یہ باتیں لائی جا رہی ہیں۔  کونسل نے  یاد دھانی کرائی کہ مسلمانوں نے مکمل خودمختار پاکستان کا مطالبہ کیا ہے اور اسے  ہندوستان کی آئینی گتھی  کا واحد حل قرار دیا ہے مگر کیبنٹ مشن کے بیان کے پیراگراف  ۶، ۷ ، ۸ ،۹ ،۱۰  اور ۱۱  قطعی طور پر غیر ضروری ہیں جن میں ایک طرف تو ہندوؤں کی خوشنودی کا سامان کیا گیا ہے اور دوسری طرف اس میں مسلمانوں کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔   مزید یہ کہ مذکورہ مندرجات  خود کیبنٹ مشن کے اپنے  اعترافات سے متصادم ہیں جو انہوں نے پیرا گراف ۵ اور ۱۲  میں کچھ اس طرح کیا ہے۔

پہلی بات”کمیشن مسلمانوں کے اس بالکل جائز اور شدید اندیشے سے سخت متاثر ہوا ہے کہ کہیں وہ ہندو اکثریت کی حکومت کے دائمی محکوم نہ بن جائیں“

دوسری بات یہ کہ ” مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر یہ جذبات فروغ پاچکے ہیں کہ انہیں محض کاغذی کاروائیوں سے تحفظ نہیں پہنچایا جاسکتا۔“

تیسرے یہ کہ ہندوستان میں واقعی امن قائم رکھنا مقصود ہوتو ایسے اقدامات  ناگزیر ہیں جو مسلمانوں کو یقین دلا سکیں کہ ان تمام معاملات میں جو مسلمانوں کی تہذیب،  مذہب اور اقتصادیات سے متعلق ہیں ان پر مسلمانوں کا مکمل اختیار ہونا چاہیئے۔“

اور چوتھے یہ کہ  ” مسلمانوں کو یہ حقیقی خدشات لاحق ہیں کہ ایک وحدت والے ہندوستان میں انکی سیاسی ، تہذیبی اور معاشرتی زندگی  عظیم ہندو اکثریت کے زیرِ اثرفنا ہو کہ رہ جائے گی۔“

آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل میں منظور کی گئی قرارداد میں مذید کہا گیا ،

”اس خیال کہ پیش نظر  کہ کسی کے بھی ذہن میں کوئی خدشات نہ رہیں کونسل آف آل انڈیا مسلم لیگ اس کا اعادہ کرتی ہے کہ ایک مکمل خود مختار پاکستان کا حصول  ابھی بھی ہندوستان کے مسلمانوں کا غیر تبدیل شدہ مطمع نظر ہے، جس کے حصول کیلئے اگر ضروری ہوا تو ہر وہ طریقہ استعمال کیا جائے گا جس کی وہ طاقت رکھتے ہیں اور اس کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔“

”کیبنٹ مشن کی پیشکش میں استعمال کئے گئے اشتعال انگیز اور گمراہ کن الفاظ کے باوجود  مسلم لیگ نے معاملات کی سنگینی کے پیشِ نظر  متعلقہ امور کے پر امن حل کی صدقِ دل کے ساتھ  جہاں تک ممکن ہے حوصلہ افزائی کی، کہ اس میں ہندوستان کے آئینی مسئلے اور   بڑی حد تک لازمی   مسلم صوبہ جات  بصورت سیکشن ۔بی اور سیکشن۔سی  گروپ میں قیامِ پاکستان کی بنیاد  کا حل ملتا نظر آتا ہے۔ مسلم لیگ مشن کے تجویز کردہ حدود کےمطابق آئین ساز مشینری سے اس امید پہ تعاون کی خواہاں ہے کہ اس کا لازمی نتیجہ ایک مکمل خود مختار پاکستان   کے قیام اور ہندوؤں، مسلمانوں جیسی بڑی اقوام کے ساتھ ساتھ اس برِ صغیر میں بسنے والی دیگر اقوام کے آزادی کے حصول کی خواہش کی تکمیل کی صورت برآمد ہوگا۔“

”یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بناء پر مسلم لیگ  ان تجاویز کو قبول کررہی ہے   اور یہ کہ مسلم لیگ صوبوں یا گروپوں کے یونین سے علیحدگی  کےحق کو استعمال کرنے کے موقع کو اوجھل نہیں ہونے دے گی  جو    مشن کی تجاویز میں پوشیدہ ہے۔ مسلم لیگ کے رویہ کا انحصار آئین سازی کرنے والوں کی محنت کے حتمی نتیجے کی برآمدگی کے ساتھ ساتھ  اس آئینی خدوخال پر  بھی ہوگا جو آئین سازوں کی کاوشوں  کے باعث  تینوں حصوں کیلئے الگ الگ اور مشترکہ دونوں شکل میں سامنے آئے گا۔   “

”مسلم لیگ  دورانِ تکمیل یا اس کے بعد آئین ساز ڈھانچے یا  آئین ساز اسمبلی کی تجاویز پر  جو اس قرارداد میں طئے کی گئی ہیں ان پر اپنے اصول ونظریات  کو مدِ نظر رکھتے ہوئے  جو پہلے    سے واضح ہیں اور جن پر مسلم لیگ اٹل اور قائم ہے، ضرورت کے تحت اپنا تبدیلی اور نظرِ ثانی کا حق بھی محفوظ رکھتی ہے ۔”

”جہاں تک تعلق ہے  مرکز میں مجوزہ عبوری حکومت کا تو یہ کونسل اپنے صدر کو  یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ عزت ماب وائسرائے سے مزاکرات کرکے اس بارے میں فیصلہ کریں۔“

اگر ہم  درجِ بالا  مضامین کا تفصیلی جائزہ لیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ قایدِ اعظم اور مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن پلان کو قبول کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ ایک متحدہ ہندوستان انکی منزل نہیں ہے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزارتی مشن کی تجاویز کو قبول کرکے وہ حصول پاکستان کی منزل سے قریب تر پہنچ جائیں گے اس لئے کچھ تاریخ نویسوں کا یہ کہنا کہ اس مشن کے منصوبے کو قبول کرکے قراردادِ لاہور سے کنارہ کشی اختیار کرلی گئی تھی سراسر غلط  اور گمراہ کن ہے

آل انڈیا مسلم لیگ کی قرارداد جون 6، 1946
Resolution of AIML, June 6, 1946

League on the Cabinet Mission Plan, 1946

League Council Resolution accepting the Cabinet Mission Plan on June 6, 1946

This meeting of the Council of the All-India Muslim League, after having carefully considered the statement issued by the Cabinet Mission and His Excellency the Viceroy on the 16th May 1946, and other relevant statements and documents officially issued in connection therewith, and after having examined the proposals set forth in the said statement in all their bearings and implications, places on record the following views for the guidance of the nation and direction of the Working Committee. x

That the references made and the conclusions recorded in paragraphs 6, 7, 8, 9, 10 and 11 of the Statement concerning the Muslim demand for the establishment of a fully sovereign Pakistan as the only solution of the Indian constitutional problem are unwarranted, unjustified, and unconvincing, and should not therefore have found a place in a state document issued on behalf and with the authority of the British Government. x

These paragraphs are couched in such a language, and contain such mutilations of the established facts, that the Cabinet Mission have clearly been prompted to include them in their Statement solely with the object of appeasing the Hindus, in utter disregard of Muslim sentiments. Furthermore, the contents of the aforesaid paragraphs are in conflict and inconsistent with the admissions made by the Mission themselves in paragraphs 5 and 12 of their Statement, which are to the following effect: First, the Mission “were greatly impressed by the very genuine and acute anxiety of the Muslims lest they should find themselves subjected to perpetual Hindu majority rule”. Secondly, “this feeling has become so strong and widespread amongst the Muslims that it cannot be allayed by mere paper safeguards”. Thirdly, “If there is to be internal peace in India it must be secured by measures which will assure to the Muslims a control in all matters vital to their culture, religion, economic or other interests”. And Fourthly, “Very real Muslim apprehensions exist that their culture and political and social life might become submerged in a purely unitary India, in which Hindus, with their greatly superior numbers, must be the dominating element”. x

In order that there may be no manner of doubt in any quarter, the Council of the All-India Muslim League reiterates that the attainment of the goal of a completely sovereign Pakistan still remains the unalterable objective of the Muslims of India, for the achievement of which they will, if necessary, employ every means in their power, and consider no sacrifice or suffering too great. x

That, notwithstanding the affront offered to Muslim sentiments by the choice of injudicious words in the preamble of the Statement of the Cabinet Mission, the Muslim League, having regard to the grave issues involved, and prompted by its earnest desire for a peaceful solution, if possible, of the Indian constitutional problem, and inasmuch as the basis and the foundation of Pakistan are inherent in the Mission’s Plan by virtue of the compulsory grouping of the six Muslim Provinces in Sections B and C, is willing to cooperate with the constitution-making machinery proposed in the scheme outlined by the Mission, in the hope that it would ultimately result in the establishment of a completely sovereign Pakistan, and in the consummation of a goal of independence for the major nations, Muslims and Hindus, and all the other people inhabiting this vast subcontinent. x

It is for these reasons that the Muslim League is accepting the scheme and will join the constitution-making body, and it will keep in view the opportunity and the right of secession of Provinces or groups from the Union, which have been provided in the Mission‘s Plan by implication. The ultimate attitude of the Muslim League will depend on the final outcome of the labours of the constitution-making body, and on the final shape of the constitutions which may emerge from the deliberations of that body jointly and separately in its three Sections. The Muslim League also reserves the right to modify and revise the policy and attitude set forth in this resolution at any time during the progress of deliberations of the constitution-making body, or the Constituent Assembly, or thereafter, if the course of events so require, bearing in mind the fundamental principles and ideals hereinbefore adumbrated, to which the Muslim League is irrevocably committed. That with regard to [the] arrangement for the proposed Interim Government at the Centre, this Council authorises its President to negotiate with His Excellency the Viceroy and to take such decisions and actions as he seems [deems?] fit and proper. x

قرارداد کا انگریزی متن فراہم کرنے پر جناب خرم علی شفیق صاحب کا ممنون ہوں

Ref: NIHCR