Safya Nisar Akhtar

صفیہ نثار اختر کے خطوط

زیرِلب اور حرف آشنا

موجودہ دور میں اردو بولنے اور سمجھنے والوں میں جاں نثار اختر سے کتنے لوگ واقف ہیں، شاید کم اور مجاز سے شاید اس سے بھی کم اور جاں نثار کی اہلیہ جو کہ مجاز کی ہمشیرہ تھیں یعنی کہ صفیہ نثار اختر؟؟ ہاں ان سب کو کوئی جانتا ہو یا نہیں مگر بھارت کے مشہور نغمہ نگار اور شبانہ اعظمی کے شوہرِ نامدارجاوید نثار اختر سے تو بہت سے لوگ آشنا ہیں۔ مگر آج ہمارا موضوع صفیہ کا “جادو” جاوید نثار اخترنہیں بلکہ صفیہ خود ہیں۔

صفیہ نثار اختر کی پہلی پہچان ان کے بھائی مجاز کی شاعری بنی جب علیگڑھ یونیورسٹی میں صفیہ اپنے بھائی کی انقلابی شاعری اسٹیج پر پڑھا کرتی تھیں۔ پھر جاں نثار اختر سے شادی کے بعد وہ گمنامی میں چلی گئیں۔ اسی زمانہؑ گمنامی میں جب وہ انتہائی کسمپرسی اور کٹھن دور سے گزر رہی تھیں اور جاں نثار اختر بسلسلہؑ روزگاران سے دور دوسرے شہروں میں رہتے تھے وہ تواتر کے ساتھ اپنے خاوند کو خطوط لکھتی تھیں۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ جن آزمائشوں کو وہ اپنے عزیزوں اور دوستوں سے چھپا کر رکھتی تھیں وہ ان کی وفات کے بعد ان کے خطوط کی صورت زباں زد عام ہوجائیں گی۔

ان کے خطوط کے دو مجموعے شائع ہوئے ۔ “زیرِلب” اور “حرف آشنا”۔ یہ صرف خطوط نہیں بلکہ چہار دیواریوں کے پیچھے بیٹھی ایک خاتون کی الم انگیز داستانِ حیات ہے جو کسی شاہکار ناول سے کم نہیں ۔ خطوط کی تحریر، اندازِ تخاطب، الفاظ کا چناؤ، سب کچھ ایک بڑا ادبی فن پارہ ہے۔ کئی مقامات پر تو یہ گمان گذرتا ہے کہ یہ کسی خط کی تحریر نہیں بلکہ سامنے بیٹھے کسی فرد سے گفتگو کی جارہی ہے۔ یہ خطوط پڑھتے ہوئے آپ اپنے کو اس ماحول کا حصہ محسوس کرنے لگیں گے، صفیہ کے درد کو اپنا درد سمجھیں گے اور کہیں کہیں بے ساختہ آنسو آپ کی آنکھوں سے رواں ہو جائیں گے۔

ان خطوط کی اشاعت کے بعد جاں نثار اختر کی شخصیت پر کئی سوالات اٹھے۔ جاں نثار اختر نے صفیہ کی پہلی برسی کے موقع پراس کے مزار پر ایک شاہکار اور طویل نظم لکھ کر بڑی حد تک اس تلخی کو کم کردیا جو ان خطوط کو پڑھ کر لوگوں کو محسوس ہوتی ہے اور اس نظم کو خطوط کے دوسرے مجموعے “زیرِلب” کا حصہ بنا دیا۔

خاموش آواز

کتنے دن میں آئے ہو ساتھی

میرے سوتے بھاگ جگانے

مجھ سے الگ اس ایک برس میں

کیا کیا بیتی تم پہ نہ جانے

دیکھو کتنے تھک سے گئے ہو

کتنی تھکن آنکھوں میں گھلی ہے

آؤ تمہارے واسطے ساتھی

اب بھی مری آغوش کھلی ہے

چپ ہو کیوں؟ کیا سوچ رہے ہو

آؤ سب کچھ آج بھلا دو

آؤ اپنے پیارے ساتھی

پھر سے مجھے اک بار جلا دو

بولو ساتھی کچھ تو بولو

کب تک آخر آہ بھروں گی

تم نے مجھ پر ناز کئے ہیں

آج میں تم سے ناز کروں گی

آؤ میں تم سے روٹھ سی جاؤں

آؤ مجھے تم ہنس کے منا لو

مجھ میں سچ مچ جان نہیں ہے

آؤ مجھے ہاتھوں پہ اٹھا لو

تم کو میرا غم ہے ساتھی

کیسے اب اس غم کو بھلاؤں

اپنا کھویا جیون بولو

آج کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں

یہ نہ سمجھنا میرے ساجن

دے نہ سکی میں ساتھ تمہارا

یہ نہ سمجھنا میرے دل کو

آج تمہارا دکھ ہے گوارا

یہ نہ سمجھنا میں نے تم سے

جان کے یوں منہ موڑ لیا ہے

یہ نہ سمجھنا میں نے تم سے

دل کا ناتا توڑ لیا ہے

یہ نہ سمجھنا تم سے میں نے

آج کیا ہے کوئی بہانا

دنیا مجھ سے روٹھ چکی ہے

ساتھی تم بھی روٹھ نہ جانا

آج بھی ساجن میں ہوں تمہاری

آج بھی تم ہو میرے اپنے

آج بھی ان آنکھوں میں بسے ہیں

پیارے کے انمٹ گہرے سپنے

دل کی دھڑکن ڈوب بھی جائے

دل کی صدائیں تھک نہ سکیں گی

مٹ بھی جاؤں پھر بھی تم سے

میری وفائیں تھک نہ سکیں گی

یہ تو پوچھو مجھ سے چھٹ کر

تیرے دل پر کیا کیا گزری

تم بن میری ناؤ تو ساجن

ایسی ڈوبی پھر نہ ابھری

ایک تمہارا پیار بچا ہے

ورنہ سب کچھ لٹ سا گیا ہے

ایک مسلسل رات کہ جس میں

آج مرا دم گھٹ سا گیا ہے

آج تمہارا رستہ تکتے

میں نے پورا سال بتایا

کتنے طوفانوں کی زد پر

میں نے اپنا دیپ جلایا

تم بن سارے موسم بیتے

آئے جھونکے سرد ہوا کے

نرم گلابی جاڑے گزرے

میرے دل میں آگ لگا کے

ساون آیا دھوم مچاتا

گھرگھر کالے بادل چھائے

میرے دل پر جم سے گئے ہیں

جانے کتنے گہرے سائے

چاند سے جب بھی بادل گزرا

دل سے گزرا عکس تمہارا

پھول جو چٹکے میں نے جانا

تم نے شاید مجھ کو پکارا

آئیں بہاریں مجھ کو منانے

تم بن میں تو منہ نہ بولی

لاکھ فضا میں گیت سے گونجے

لیکن میں نے آنکھ نہ کھولی

کتنی نکھری صبحیں گزریں

کتنی مہکی شامیں چھائیں

میرے دل کو دور سے تکنے

جانے کتنی یادیں آئیں

اتنی مدت بعد تو پریتم

آج کلی ہردے کی کھلی ہے

کتنی راتیں جاگ کے ساجن

آج مجھے یہ رات ملی ہے

بولو ساتھی کچھ تو بولو

کچھ تو دل کی بات بتاؤ

آج بھی مجھ سے دور رہوگے

آؤ مرے نزدیک تو آؤ

آؤ میں تم کو بہلا لوں گی

بیٹھ تو جاؤ میرے سہارے

آج تمہیں کیوں غم ہے بولو

آج تو میں ہوں پاس تمہارے

اچھا میرا غم نہ بھلاؤ

میرا غم ہر غم میں سمولو

اس سے اچھی بات نہ ہوگی

یہ تو تمہیں منظور ہے بولو

میرے غم کو میرے شاعر

اپنے جواں گیتوں میں رچا لو

میرے غم کو میرے شاعر

سارے جگ کی آگ بنا لو

میرے غم کی آنچ سے ساتھی

چونک اٹھے گا عزم تمہارا

بات تو جب ہے لاکھوں دل کو

چھو لے اپنے پیار کا دھارا

میں جو تمہارے ساتھ نہیں ہوں

دل کو مت مایوس کرو تم

تم ہو تنہا تم ہو اکیلے

ایسا کیوں محسوس کرو تم

آج ہمارے لاکھوں ساتھی

ساتھی ہمت ہار نہ جاؤ

آج کروڑوں ہاتھ بڑھیں گے

ایک ذرا تم ہاتھ بڑھاؤ

اچھا اب تو ہنس دو ساتھی

ورنہ دیکھو رو سی پڑوں گی

بولو ساتھی کچھ تو بولو

آج میں سچ مچ تم سے لڑوں گی

جاگ اٹھی لو دنیا میری

آئی ہنسی وہ لب پہ تمہارے

دیکھو دیکھو میری جانب

دوڑ پڑے ہیں چاند ستارے

جھلمل جھلمل کرنیں آئیں

مجھ کو چندن ہار پہنانے

جگمگ جگمگ تارے آئے

پھر سے میری مانگ سجانے

آئیں ہوائیں جھانجھ بجاتی

گیتوں مورا انگنا جاگا

مورے ماتھے جھومر دمکا

مورے ہاتھوں کنگنا جاگا

جاگ اٹھا ہے سارا عالم

جاگ اٹھی ہے رات ملن کی

آؤ زمیں کی گود میں ساجن

سیج سجی ہے آج دلہن کی

آؤ جاتی رات ہے ساتھی

پیار تمہارا دل میں بھر لوں

آؤ تمہاری گود میں ساجن

تھک کر آنکھیں بند سی کر لوں

اٹھو ساتھی دور افق کا

نرم کنارا کانپ اٹھا ہے

میرے دل کی دھڑکن بن کر

صبح کا تارا کانپ اٹھا ہے

دل کی دھڑکن ڈوب کے رہ جا

جاگی نبضو تھم سی جاؤ

پھر سے میری بے نم آنکھو

پتھر بن کر جم سی جاؤ

میرے غم کا غم نہ کرو تم

اچھا اب سے غم نہ کروں گی

میرے ارادوں والے ساتھی

جاؤ میں ہمت کم نہ کروں گی

تم کو ہنس کر رخصت کر دوں

سب کچھ میں نے ہنس کے سہا ہے

تم بن مجھ میں کچھ نہ رہے گا

یوں بھی اب کیا خاک رہا ہے

دیکھو! کتنے کام پڑے ہیں

اچھا اب مت دیر کرو تم

کیسے جم کر رہ سے گئے ہو

اتنا مت اندھیر کرو تم

بولو تم کو کیسے روکوں

دنیا سو الزام دھرے گی

ایسے پاگل پیار کو ساتھی

ساری خلقت نام دھرے گی

آؤ میں الجھے بال سنواروں

مجھ سے کوئی کام تو لے لو

پھر سے گلے اک بار لگا کے

پیار سے میرا نام تو لے لو

اچھا ساتھی! جاؤ سدھارو

اب کی اتنے دن نہ لگانا

پیاسی آنکھیں راہ تکیں گی!

لیکن ٹھہرو ٹھہرو ساتھی

دل کو ذرا تیار تو کر لوں

آؤ مرے پردیسی ساجن!

آؤ میں تم کو پیار تو کر لوں

(جاں نثار اختر)

 

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.