بلکتا کراچی

رستا، سسکتا، سلگتا کراچی

اک روز رنگ و نور کے موسم کو

باد شرط اڑا کر لے گئی

اک موج خوں کہئے اسے

اس شہر کے اس باغ کے

نام و نشاں سارے بہا کر لے گئی

اے نوحہ گر

اے راقم افسانۂ زیر و زبر

اے چشم حیرت چشم تر

عبرت کی جا ہے کس قدر

اب یاد کا ہے ایک افسردہ نگر

اس شہر میں

کچھ دیر کو ٹھہریں ذرا

نوحہ کریں

قصہ لکھیں

.. .. عین تابش

بے ہنگم آبادی کا پھیلاؤ

 قیامِ پاکستان کے وقت دارالخلافہ اور تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے اندرونِ ملک سے روزگار کے حصول کے لئے بہت بڑی تعداد میں لوگ یہاں آکر بسنا شروع ہوگئے۔ بہت سے خاندان مناسب رہائش گاہیں نہ ہونے کے سبب جھونپڑیاں یا کچے گھر بنا کر جہاں جگہ ملی رہنا شروع ہو گئے۔

یہ صورتحال دیکھ کر جرائم پیشہ عناصر میدان اور خالی پلاٹوں پر قابض ہوتے چلے گئے اور ضرورت مند لوگوں کو قبضہ کی ہوئی زمینوں پر کم قیمت لے کر بسانا شروع کردیا۔

ایوب خان کا دور آیا تو سیاسی مقاصد کے لئے باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں ٹرک بھر بھر کر کچھ مخصوص علاقوں کے لوگوں کو یہاں بسانے کا سلسلہ شروع ہوا اور ہر اچھی آبادی کے گرد ان افراد کو زمینوں پر قبضہ کرکے بسایا گیا۔

مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو وہاں سے بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے کراچی کا رخ کیا اور یوں ایک اور ہجرت کا بوجھ اس شہر کو اٹھانا پڑا۔

بھٹو صاحب کے اقتدار میں آنے کے باعث سندھی افراد کو ممتاز بھٹو کی شکل میں اپنا سرپرست ملا تو انہوں نے بھی بڑی تعداد میں اندرونِ سندھ سے کراچی ہجرت شروع کردی۔

جب روس افغانستان میں داخل ہوا تو افغان مہاجرین بڑی تعداد میں پاکستان آئے اور ان میں سے لاکھوں کراچی کی طرف آئے اور باقاعدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں بے شمار مقامات اور نئی تعمیر ہونے والی بلڈنگز پر قبضہ کرکے رہنا شروع کردیا۔۔

افغانستان پر امریکی حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر بڑی تعداد میں افغانی کراچی میں آکر آباد ہوئے۔

کراچی کی آبادی

انتظامی و معاشرتی مسائل

آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ نے انتظامی مسائل کو جنم دیا اور ان مسائل نے معاشرتی پیچیدگیاں پیدا کیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں قائم ہونے والی کچی آبادیاں بہت ہی بھونڈے طریقے سے وجود میں آئی تھیں گلیاں نہ تو سیدھی تھیں اور نہ ہی ان کی چوڑان مناسب تھی، کئی مقامات پر یہ گلیاں بند ہیں اور یوں آج بھی ان علاقوں میں بڑی گاڑیوں کا داخلہ ممکن نہیں اور کبھی غلطی سے کوئی گاڑی داخل ہوجائے تو راستہ مسدود ہوجاتا ہے اور بعض اوقات گھنٹوں گلیاں بلاک ہوجاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں صفائی ستھرائی اور دیگر کام کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان آبادیوں کو کہیں اور منتقل کیا جاتا سیاسی ضروریات کے تحت ایک کے بعد دوسری آنے والی حکومتوں نے ان آبادیوں کو باقاعدہ لیز کردیا اور یوں ان آبادیوں کا خاتمہ ہمیشہ کے لئے ناممکن بنادیا۔ شہر انتظامی طور پر مختلف محکموں میں بٹا ہونے کی وجہ سے بھی کئی مسائل پیدا ہوئے۔ شہر میں موجود وسیع رقبوں پر پھیلے چھ عدد کنٹونمنٹ بورڈ سویلین انتظامیہ کے اثرو رسوخ سے آزاد اپنے ماسٹرز کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ کچھ پتا نہیں چلتا کہ کس ادارے کی انتظامی حد کہاں تک ہے۔ پروپیگنڈا مشینری ایک کا گناہ دوسرے کے سر پر تھونپتی ہے ۔ نہ صرف جرائم پیشہ مافیا بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شہر کے بڑے برساتی نالوں، ندیوں حتیٰ کہ سمندری حدود تک پر قبضہ جماتے رہتے ہیں۔

صحت کی نامناسب سہولیات، تعلیم کی کمی اور بے روزگاریوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کو جرائم کی طرف مائل کیا۔ جرائم پیشہ افراد کے گروہ بنتے چلے گئے اور دن بدن طاقتور ہوتے چلے گئے۔ ان کی طاقت کے پیشِ نظر انہیں سیاسی سرپرستیاں بھی ملنے لگیں اور لاقانونیت بڑھتی چلی گئی۔ اردو بولنے والے جو اس شہر کی سب سے بڑی آبادی تھی وہ شروع سے ہی پولیس کے محکمے میں جانے سے گریزاں رہے اور چند مخصوص علاقوں کے افراد پولیس میں چھا گئے۔ ون یونٹ نے مذید ستم ڈھایا اور نہ صرف پولیس بلکہ کسٹم ، اور محکمہ داخلہ کے زیرِ انتظام تمام محکموں میں کچھ مخصوص کمیونٹی کے افراد بھرتی ہوتے چلے گئے اور یوں یہاں آباد لوگوں کی اکثریت اپنے ہی شہر میں  بے یارو مددگار ہوتی چلی گئی۔ پولیس کی نگرانی میں مصروف شاہراہوں پر ٹھیلے لگوائے جاتے ہیں اور فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ سڑک کا ایک بڑا حصہ بھی قبضے میں لے لیا جاتا ہے. ایک طرف تو پیدل چلنے کی جگہ نہیں ملتی اور دوسری طرف مصروف اوقات میں ٹریفک جام کے مسائل پیدا ہوتے ہیں. پبلک ٹرانسپورٹ کی خستہ حالی ناقابلَ بیان ہے.

کراچی ٹریفک

افغانیوں کی یلغار کے بعد منشیات اورانتہائی مہلک قسم کے غیر قانونی اسلحے کی بھر مار نے اس شہر کو گوناگوں قسم کے مسائل میں گرفتار کردیا۔ تعلیم جو اس شہر کے لوگوں کا سب سے مضبوط ہتھیار تھا اور جس کے بل بوتے پر وہ سرکاری نوکریوں سے محرومی کے باوجود دینا بھر میں اپنے روزگار کا بندوبست کرلیتے تھےاس کا نظام کمزور ہوتا چلاگیا۔ اور پھر ایک وقت وہ آیا جب اس ملک کی سب سے مہذب کہلانے والی کمیونٹی نے اپنے ہاتھوں میں کلاشنکوف اٹھالی۔ قتل و غارت گری، بھتہ خوری، سڑکوں، نالوں، اور پارکوں پر قبضہ عام ہوگیا۔ چائنہ کٹنگ کی ایک نئی اصطلاح متعارف ہوئی اور یہ شہر جو پہلے غیروں کی یلغار سے مسائل میں گرفتار ہوا تھا اب اپنوں کی ہوس کا شکار ہوگیا۔

کلاشنکوف کلچر

بے نظیر بھٹو جب دوسری مرتبہ اقتدار میں آئیں تو انہوں نے فہیم الزماں صدیقی کو کراچی کا ایڈمنسٹر مقرر کیا اور اس کے ہمراہ فضائی سروے کرکے کراچی کے لئے کچھ نئی شاہراہیں ، فلائی اوورز اور کچھ دوسرے ترقیاتی کام شروع کروائے۔ ناردرن بائی پاس، سدرن بائی پاس، مائی کلاچی روڈ، لیاری ایکسپریس وے وغیرہ کے منصوبے ترتیب دئے گئے مگر کہیں سیاست آڑے آئی تو کہیں عدالت اور کہیں کچھ اداروں کے اپنے مفادات۔ پھر انتہائی تیزی کے ساتھ کراچی کی سیاسی قوت کے ساتھ حکومت کی محاذ آرائی نے شہر میں قتل وغارت گری کا ایک بھیانک سلسہ شروع کردیا۔

مصطفیٰ کمال جب میئر بنے تو شہر میں انتہائی برق رفتاری سے ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا مگر اس کا ایک پس منظر بھی تھا۔ خبریں گردش میں تھیں کہ امریکہ کی نظریں کراچی پر ہیں اور وہ اسے فری پورٹ میں تبدیل کرکے اپنے تجارتی مفادات کو پھیلانا چاہتا ہے۔ مصطفیٰ کمال کو مشرف کی سرپرستی حاصل تھی، شہر کے کسی بھی ادارے اور کنٹونمنٹ بورڈ وغیرہ کی طرف سے کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں تھی، مرکزی حکومت کی طرف سے فنڈز وافر مقدار میں دستیاب تھے۔ شہر کی مرکزی سیاسی قوت ہونے کی وجہ سے بھی امن و امان کے کوئی مسائل نہیں تھے۔ مگر یہی وہ دور تھا جب شہر کے حسین علاقوں کے پارکس اور پلے گراونڈز پر چائنہ کٹنگز کا آغاز ہوا جس میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا۔ مشرف کا دور ختم ہوا تو نئی آنے والی حکومت اور بلدیاتی اداروں میں اختیارات کی ایک نئی جنگ چھڑ گئی۔ شہر جیسے تیسے آگے بڑھتا رہا مگر پھر مرکز میں ایک کے بعد دوسری نئی حکومتوں کے قیام کے بعد صوبائی اور مرکزی سطح پر بھی فنڈز اور اختیارات کی چپقلش نے اس شہر کو دربدر کردیا۔ ہر نسل، ہر قومیت، ہر مذہب کے لوگوں کو اپنی آغوش میں سمیٹ لینے والی اس ماں کو کوئی اپنا ماننے کو تیار نہیں ہے اور ناخلف اولادوں کی مانند ہر ایک دوسرے کو اس کا زمہ دار قرار دیتا ہے۔

آج یہ ماں فریاد کناں ہے
(جاری ہے)

میرے بدن پر بیٹھے ہوئے گدھ

میرے گوشت کی بوٹی بوٹی نوچ رہے ہیں

میری آنکھیں میرے حسیں خوابوں کے نشیمن

میری زباں موتی جیسے الفاظ کا درپن

میرے بازو خوابوں کی تعبیر کے ضامن

میرا دل جس میں ہر نا ممکن بھی ممکن

میری روح یہ سارا منظر دیکھ رہی ہے

سوچ رہی ہے

کیا یہ سارا کھیل تماشہ

(خوں خواروں کے دسترخوان پہ میرا لاشہ)

لذت کام و دہن کے لیے تھا

حمایت علی شاعر

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.