Economics of Pakistan

حکومت کی معاشی ناکامیاں اور وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے خطاب

 پاکستان کے گزشتہ دس برسوں کے قرض کا تجزیہ

وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر میں گزشتہ دس برس کے قرضوں کا نوحہ پڑھا۔ دیکھئے ان کی اپنی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عشرت حسین سابق گورنر اسٹیٹ بنک کیا کہتے ہیں۔

Total debt servicing obligations have, however, remained at the same 4 level as in 2008 i.e. around 6 percent of GDP and have in fact declined by 1 percentage point( ppt) from 2013.

Public External Debt is lower in 2017 i.e. 20.7 percent of GDP while it was 27.1 percent in 2008 and 21.4 pct in 2013.

The real culprit was the private sector debt which rose from 2 percent of GDP in 2008 to 11.5 percent in 2017 . It is pertinent to point out that for private debt the government has no fiscal obligation but the SBP has to provide foreign exchange to service this debt. Borrowing from the IMF is also included in gross public debt, although it is a liability of the SBP and has no fiscal consequences.

Analysis of Pakistan’s Debt Situation: 2000‐20171
Ishrat Husain

https://ishrathusain.iba.edu.pk/speeches/AnalysisofPakistansDebtSituation2000-2017-.pdf

قطع نظر اس بات کہ کے وزیرِ اعظم کی تقریر کتنی اچھی تھی اور حقیقی معنوں میں آنے والے وقت میں اس کے کیا فائدے اور کیا نقصانات ہوں گے ایک بات طئے شدہ ہے کہ موجودہ حکومت سے پہلے کے گزشتہ دس سالوں کو  پاکستان کی معاشی تباہی کا سبب  بتانا صریحاً غلط ہے اور یہ موجودہ حکومت کی ناکام معاشی  پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش تھی۔ اس  لفاظی سے ان کے اپنے حامیوں کو تو مطمئن کیا جاسکتا ہے یا  پاکستانی عوام کے کچھ طبقات کو گمراہ کیا جاسکتا ہے مگر بزنس ، انڈسٹری اور معاشیات سے دلچسپی رکھنے والے طبقات کو ہرگز نہیں۔ معاشیات لفاظی نہیں اعداد و شمار کی بنیاد پر پرکھی جاتی ہے اور اعداد و شمار کے حساب سے پاکستان  سنہء 2000 میں بہت برے حالات سے دوچار تھا  اس کے مقابلے میں مشرف ، زرداری اور نواز شریف کا دور ختم ہونے پر پاکستان کے معاشی حالات بہت بہتر تھے۔   زرداری کو آپ جتنا بھی برا  انسان گردانیں ، معاشی اعدادو شمار  بتاتے ہیں کہ  زرداری کا دور مشرف اور نواز شریف کے مقابلے میں کئی ایک اعتبار سے بہتر تھا  اگرچہ پاور سیکٹر کی طرف مشرف حکومت کی مجرمانہ غفلت نے طویل لوڈ شیڈنگ کی   وجہ سے انڈسٹریل سیکٹر کی گروتھ  کو بری طرح متاثر کئے رکھا ،  عالمی منڈی میں پٹرول 130 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچا ہوا تھا۔ پھرطالبان ،  کراچی کے امن ا امان کے حالات اور سب سے بڑھ کر جسٹس افتخار محمد چودھری  نے پیپلز پارٹی کی حکومت کے ہاتھ باندھ رکھے تھے- اگر جنرل کیانی ، راحیل شریف کی طرح دہشت گردی کے خلاف کھل کر اقدامات کرتے اور عدالتیں حکومتی پالیسیوں کی راہ کی دیوار نہ بنی رہتیں تو زرداری حکومت کے اعداو و شمار اس سے کہیں بہتر ہوتے جو ابھی نظر آتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھئے کہ جس وقت زرداری صاحب نے اقتدار سنبھالا تھا اس وقت پوری دنیا ایک بہت بڑے معاشی بحران سے گزر رہی تھی مگر اس صورتحال میں بھی زرداری صاحب   کی حکومت پاکستان کی برآمدات کو 25 بلین ڈالر تک لے گئی تھی۔

میڈیا اور  مختلف فورمز پر مسلسل کئے جانے والے پروپیگنڈے  کے ذریعہ عوام کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھا دی گئی ہے کہ موجودہ حکومت کو معاشی اقدامات کرنے میں اس وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں کہ گزشتہ دو ادوار میں  نہ صرف حکمرانوں نے کرپشن کی بلکہ بے تحاشہ قرضہ جات لئے جو  موجودہ حکومت کے لئے مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔  ان تمام باتوں کا الگ الگ تجزیہ کرنا ضروری ہے تاکہ حقیقت
کا  علم ہوسکے۔

1۔ پہلی بات تو یہ کہ الزامات لگاتے وقت گزشتہ دونوں ادوار کو جوڑ دیا جاتا ہے جب کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے ادوار کے معاشی اشاریہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مثلاً قرض کے حجم کی ہی بات کی جائے تو پیپلزپارٹی کے دور کا قرض مسلم لیگ نون کے قرض کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پھر اس بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ان دونوں ادوار کے بعد الیکشن سے پہلے ایک عبوری حکومت بھی آئی تھی جس نے اپنے گل کھلائے تھے۔

2۔ دوسری بات یہ کہ کرپشن کے جو بھی الزامات لگے ہیں ان میں کہیں بھی کوئی ایسے اعداد و شمار نہیں ہیں جو مجموعی قومی آمدنی  میں کوئی قابلِ ذکر اثرات مرتب کرتے نظر آئیں۔ اگر کسی  نے ایک پیسے کی بھی چوری کی ہے تو بے شک اس کو سزا ملنی چاہئے  مگر دس برسوں میں انفرادی سطح پر کی گئی بدعنوانیوں کے الزامات (جو ابھی عدالتوں میں ثابت ہونا باقی ہیں) کا حجم ہرگز ایسا نہیں ہے کہ جس کو معیشت کی تباہی و بربادی کا سبب گردانا جائے۔

3۔ پاکستان کے قرض اور واجبات

کسی بھی ملک کے قرضہ جات اور واجبات مجموعہ ہوتے ہیں  1 ۔ حکومتی قرضہ جات اور   2۔ نجی قرضہ جات

معاشیات میں قرض کے بوجھ کا پیمانہ قرض کے حجم سے نہیں بلکہ مختلف اشاریوں کی مدد سے ماپا جاتا ہے جس میں قومی آمدنی، برآمدات، ٹیکس آمدن، کل زرِ مبادلہ کی کمائی، زرِ مبادلہ کا حجم اور   مجموعی آمدنی شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ بجٹ  کی آمدنی و اخراجات میں  ملکی و غیر ملکی کرنسی میں لئے گئے

قرضہ جات  کو شامل کیا جاتا ہے تاہم تیکنیکی بنیادوں پر ملکی و غیر ملکی قرضہ جات کی نوعیت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ڈیفالٹ کا خطرہ ملکی قرضوں پر نہیں بلکہ  غیر ملکی قرضوں پر ہوتا ہے۔ مقامی کرنسی کے قرضہ جات  سے نپٹنے کیلئے حکومت کے پاس بہت سے ذرائع ہوتے ہیں۔ مسئلہ ہوتا ہے غیر ملکی

 قرضہ جات کا ۔ غیر ملکی قرضہ جات میں بھی چھوٹی مدت کے لئے لئے گئے قرضے زیادہ پریشانی کا سبب بنتے ہیں، مثلاً جب مشرف نے افغان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو پیرس کلب اور دوسری ایجنسیوں نے پاکستان کے قرضہ جات کو ری شیڈول کر دیا تھا اور یوں پاکستان کے اوپر  منڈلاتے ہوئے معاشی خطرات ٹل گئے تھے۔   یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ مشرف اپنی بلا دوسروں کے سر ٹال گئے تھے جس کا سامنا زرداری حکومت کو اپنے آخری سالوں میں اور پھر نواز حکومت کو اپنے شروع کے دور میں کرنا پڑا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف حکومت کو جو قرض ادا کرنا پڑا اس  میں ایک قابلِ ذکر حصہ ان قرضہ جات کا بھی تھا جو نوز شریف نے 90 کی دھائی میں اپنے دوسرے دورِ حکومت میں لئے تھے۔

موجودہ حکومت نے  اپنے مختصر دورِ حکومت میں قرض کا کوہِ ہمالیہ کھڑا کردیا ہے جبکہ جی ڈی پی بہت  گھٹ گئی ہے، شرحِ سود میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کاروباری قرض لینا بہت مہنگا پڑ رہا ہے، روپے کی قدر میں کمی کے باوجود بر آمدات مسلسل گھٹ رہی ہیں۔ بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، آٹو انڈسٹری جیسا بڑا  شعبہ اپنا کاروبار مختصر کرنے پر مجبور ہوگیا ہے، تعمیراتی صنعت جس سے کرو ڑوں افراد کا روزگار وابستہ ہوتا ہے وہ تنزلی کا شکار ہے مگر وزیرِ اعظم اپنی جلائی ہوئی ہانڈی کی کالک دوسروں کے منہ پر ملنا چاہ رہے ہیں۔   ڈاکٹر عشرت حسین کی مہیا کردہ ٹیبلز کی طرف جانے سے پہلے  زرا ڈان کے  ایک مضمون پر بھی نظر مار لیجئے گا۔

Which political party has been the best for Pakistan’s economy? Trade stats reveal all

A data-centric review of trade statistics might counter the hyperbole that dominates the airwaves.

https://www.dawn.com/news/1482443

Debt Stock Profile

Debt Servicing Profile

Trends in Public Debt

Key Debt Servicing Indicators

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.