اقبال کی منزل

اقبال کی منزل مختصر تعارف

اقبال کی منزل- مضامین

تین ماہ قبل ماہرِ اقبالیات جناب خرم علی شفیق صاحب کی نئی تصنیف اقبال کی منزل 1946-1927 منظرِ عام پر آئی۔ یہ اس سیریز کی پہلی کتاب ہے جو اقبال کی دستاویزی سوانح کے سلسلے میں مصنف نے ترتیب دی ہے۔ آنے والی کتابیں ”اقبال کی جستجو“ ابتدا سے 1906 تک اور ”اقبال کا راستہ“ 1926-1907 تک کے ادوار پر مشتمل ہوگی۔

یوں تو اقبال کی زندگی سے متعلق بے شمار تصانیف شائع ہوچکی ہیں اور ان میں آئے روز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ خود جناب خرم علی شفیق صاحب کی اقبال سے متعلق تصانیف بھی اس سے پہلے شائع ہوکر قبولیتِ عام کا درجہ حاصل کرچکی ہیں۔ تاہم اقبال کی سوانح سے متعلق ان کی نئی کتاب ”اقبال کی منزل“ سے انہوں نے ایک نئی جہت کی بنا ڈالی ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے ہر ممکن حد تک اپنے تبصرے، اپنے اندازوں اور الفاظ کی اپنی جادو گری کے بجائے انتہائی مستند دستاویزات کی مدد سے یہ سوانح ترتیب دی ہے اور اس مشق کا خاتمہ کیا ہے جو زبانی روایات اور من گھڑت قصوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اقبال کی ذات سے وابستہ کچھ غلط لیکن مشہور روایات کا تذکرہ کتاب کے متن یا حاشیہ میں کرتے ہوئے انہیں دستاویز کی مدد سے رد کیا ہے۔ اگر ایک ہی واقعہ سے متعلق مختلف دستاویزات مختلف باتوں کے ساتھ شائع ہوئی ہیں تو ان پر یا تو تحقیق کرکے حقیقت کو سامنے لایا گیا ہے یا پھر ان سب کو قاری کے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر فیصلہ کرلے۔

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے میں جیسے جیسے آگے بڑھتا رہا ویسے ویسے میں اپنے آپ کو اس دور کا حصہ تصور کرنے لگا جو قیامِ پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ کن دور تھا۔ اقبال کے خیالات، انکے جذبات، انکی بے چینیاں، انکا اطمینان، انکی محرومیاں، انکی خوشیاں، انکا ملال، انکی خواہشات، انکے افکار، انکا فلسفہ غرض میں نے اس کتاب کو پڑھتے ہوئے اپنے آپ کو اقبال سے جڑا ہوا پایا۔ یوں تو اس دور کی مختلف شخصیات کے ساتھ اقبال کا تعلق اس کتاب کے ذریعہ سامنے آتا ہے تاہم اقبال کا قائدِ اعظم کے ساتھ جو تعلق قائم ہوا وہ میرے لئے بیحد اہمیت کا حامل تھا۔ بین السطور میں میرا اندازہ ہے کہ قائدِ اعظم کے چودہ نکات سے پہلے تک اقبال نے ان سے وہ امیدیں وابستہ نہیں کی تھیں جو بعد میں ابھر کر سامنے آئیں اور وہ جناح کو مسلمانوں کا نجات دہندہ ماننے لگے۔ اور جب یہ تعلق قائم ہوگیا تو علامہ اقبال نے قائدِ اعظم کو مسلسل رہنمائی فراہم کی اور قائدِ اعظم نے انکے تمام مشوروں کو انتہائی تدبر کے ساتھ تسلیم کیا اور یوں اقبال کی فکر اور فلسفہ قائدِ اعظم کی عملی جدوجہد کے نتیجے میں کامیابیاں سمیٹتا چلا گیا۔

علامہ اقبال کی مختلف شخصیات سے خط و کتابت  کی تفصیلات خصوصاً نذیر نیازی، راغب احسن، سر راس مسعود، قائدِ اعظم، جواہر لال نہرو ، لارڈ لوتھین اور افغان رہنماؤں سے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کتاب میں علامہ اقبال کے خطوط کے حوالے سے بھی دستاویزی وضاحتیں فراہم کی گئی ہیں۔ علامہ اقبال کے کئے گئے مختلف سفر کی مستند تاریخیں اور انکی روداد،       انکے کچھ کلام کا تاریخی پس منظر، انکے مشہورِ زمانہ خطبات کے حوالے سے کئی طرح کی تفصیلات، علیحدہ مسلم مملکت کے حوالے سے انکے نظریات اور چودھری رحمت علی کے نظریہ پاکستان میں تضاد کی تفصیل اس کتاب کا بہت اہم جزو ہیں۔

اس کتاب میں علامہ اقبال کی زندگی کے کٹھن لمحات کی تفصیلات بھی ہمارے سامنے آتی ہیں، انکی مسلسل بیماریاں،  اہلیہ سردار بیگم کی بیماریاں، کچھ گھریلو ناچاقیاں، معاشی تنگ دستی،  جرمنی کے ایک اور سفر کی آرزو، سفرِ حجاز کی آرزو، اپنے بعد بچوں کی سرپرستی کی فکر ، یہ وہ تفصیلات ہیں جن کو پڑھتے ہوئے آپ آبدیدہ ہوجائیں گے۔

یوں تو علامہ اقبال 1938 میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے لیکن جناب خرم شفیق صاحب نے انکی سوانح کا دائرہ 1946 کی قراردادِ دہلی تک پھیلایا ہے کیوں کہ یہی وہ فیصلہ کن موڑ تھا جب مسلمانانِ ہند کو اپنی منزل سامنے نظر آگئی تھی جس کی بنیاد سرسید نے رکھی تھی، جس کا شعور مسلمانوں میں علامہ اقبال نے بیدار کیا تھا اور جس کے حصول کیلئے قائدِ اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دی تھیں۔

یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے

یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

خودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا