اقبال اور بھٹائی

اقبال اور بھٹائی

خرم علی شفیق

شاہ عبداللطیف بھٹائی اور علامہ اقبال ایک ہی چراغ کی کرنیں ہیں۔ یہ وہ سچائی ہے جسے ہم ابھی تک نہیں پہچان پائے۔ شاید اس لیے کہ ہمارے یہاں دونوں شاعروں کا مطالعہ غیرملکی ماہرین کے متعین کیے ہوئے اصولوں کی روشنی میں ہوتا ہے۔

رومی، بھٹائی اور اقبال ہماری ثقافت کے تین مراحل کی نمایندگی کرتے ہیں۔ مولانا روم نے اپنی زبان سے دعویٰ نہیں کیا کہ قرآن کی تفسیر کر رہے ہیں مگر بعد میں آنے والوں نے اُن کی مثنوی کے بارے میں کہا کہ وہ فارسی میں قرآن ہے۔ رومی کے قریباً پانچ سو برس بعد سندھ میں بھٹائی نے دعویٰ کیا کہ اُن کی شاعری میں قرآن کے معانی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ دعویٰ اُن کے مجموعہء کلام “شاہ جو رسالو” میں موجود ہے۔ اس طرح بالواسطہ یعنی قرآن کے ذریعے اُن کا تعلق مولانا روم کے ساتھ بھی جڑتا ہے۔

اقبال اور بھٹائی – خرم علی شفیق