احمد صفی کی البم 1

Published at Facebook
Ahmad Safi

Divine Selfies۰۰۰ مقدس سیلفیاں

آج سے پچاس سال قبل تک عازمینِ حج و عمرہ سفرِ مبارکہ کی یادیں دلوں میں بسا کر لے آیا کرتے تھے۔ تا دیر مقاماتِ مقدسہ کو تکا کرتے تھے کہ ان مناظر کو آنکھوں کی راہ سے دل میں سمو لائیں۔ پھر ان میں سے جن کو قوتِ ناطقہ سے رب کریم نے نوازا ہوتا تھا وہ محفلوں میں ان مقامات کا بیان یوں کیا کرتے تھے کہ سننے والے کی آنکھوں کے سامنے منظر پھر جایا کرتا تھا۰۰۰ ہمارے یہاں واپسی پر حجاج کی دعوتوں کی روایت شائد اسی لئے پڑی کہ شائقینِ دیدار جمع ہو سکیں اور حاجیوں سے احوالِ سفر سُن کر اپنے شوق کی آنچ تیز کر سکیں۰۰۰

اے مدینے کے زائر خدا کے لئے داستانِ سفر مجھ کو یوں نہ سنا
دل تڑپ جائے گا بات بڑھ جائے گی، میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے

اور پھر کچھ ایسے خوش بخت لوگ بھی تھے جن کے قلم کو باری تعالٰی نے وہ قوت بخشی تھی کہ تحریر سے تصویر اتار کے رکھ ڈالیں۔ ان کا حلقۂ اثر بڑا اور زیادہ موثر ہوا کرتا تھا۔ سفرنامہ ہائے حج آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جیسے پہلے تھے۔ ان کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ہر دور کی تفصیلات محفوظ ہوتی چلی جاتی ہیں اور شائقین ہر دور کے واقعات و حالات سے واقف ہوتے چلے جاتے تھے۔ ہمارے یہاں مولانا غلام رسول مہر، شورش کا شمیری، ممتاز مفتی اور مستنصر حسین تارڑ صاحبان نے اپنے اپنے ادوار کے سفر حج کو منفرد انداز میں قلمبند کیا ہے۔

پھر کیمرے کا زمانہ آگیا۰۰۰ گو ہر ایک کی پہنچ میں یہ آلہ نہیں ہؤا کرتا تھا پھر بھی جو تصاویر لے آتا تھا ان کو شائع کر کے یا اقرباء میں تقسیم کر کے عند اللہ ماجور ہوتا تھا۔ اس طرح لوگوں تک مقاماتِ مقدسہ کی تصاویر گاہے بگاہے پہنچنے لگیں۔ ٹی وی کا دور شروع ہؤا تو دیکھنے والوں نے ذوق و شوق کے ساتھ طوافِ کعبہ اور سعی کے مناظر سے قلب و نظر کو ٹھنڈک پہنچائی۰۰۰ سیاہ و سپید تصاویر کے بعد رنگین تصاویر کا زمانہ آیا تو ان مناظر میں بھی رنگ بھر گیا اور نظارے روح پرور ہو گئے۔

پھر کیمرے عام ہؤے ہر زائر کے پاس کیمرہ نظر آنے لگا اور مقامات سے زیادہ ان مقامات پر اپنی موجودگی کے شواہد جمع کرنے کے لئے تصویر کشی شروع ہو گئی۔ پھر ادھر چند برسوں سے سمارٹ فون ہماری زندگیوں میں داخل ہؤا اور سوئز فوجی چاقو کی طرح کثیر الاستعمال آلہ بن گیا۰۰۰ فون، ڈائری، کتاب، گھڑی، ٹارچ غرضیکہ ہر کام کے لئے موبائیل کی طرف ہی ہاتھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خواہی نخواہی ایک عدد بلکہ دو عدد کیمرے بھی ہاتھ آئے۔ ایک سے دوسروں کی تصویر کھینچئیے دوسرے سے نرگسیت کی تسکین کیجئیے یعنی عرفِ عام میں سیلفی لیجئیے۔

سیلفی کے بخار نے موبائیل فون وائرس کی طرح ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حالیہ سفرِ حج میں حجاج کرام کو اس میں مبتلا پایا۔ سوء ظن روا رکھا جائے تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ مقاماتِ مقدسہ سے زیادہ اہمیت ان کے پس منظر میں سیلفی اتارنے کو دی جا رہی ہے اور شائد ایک پہلو ریا کا اس میں در آتا ہو کہ ع ہم بھی وہیں موجود تھے ۰۰۰

البتہ حسنِ ظن کو پیشِ نظر رکھا جائے تو شائد یہ حاجی کی مناظر کو آنکھوں میں سمو لینے کی فطری خواہش کا اظہار ہو جو سیلفی کی صورت اختیار کر لیتا ہو۔ بہرحال ہمیں حسن ظن ہی سے کام لینا چاہئیے۔

لیکن چاہے حسن ظن سے کام لیں یا سوء ظن سے، جب ارکانِ حج و عمرہ کے دوران عبادت چھوڑ کر سیلفی اور تصویر کشی شروع کر دی جائے تو یہ قابلِ مذمت عمل ہے۔ مثلاً حالیہ حج کے دوران دیکھا کہ حجاج طوافِ کعبہ کے دوران نہ صرف سیلفیاں بلکہ سارے عمل کی ویڈیو بنانے میں مصروف نظر آئے۔ اس میں مرد و زن یکساں شامل تھے۔ اس دوران سکائپ اور ایمو کے ذریعے لوگوں نے دور دراز گھر والوں کو شاملِ طواف و سعی رکھا۔ اور میں یہ سوچتا رہا کہ ان عبادات کا کیا حال ہو رہا ہو گا۔ طواف کے دوران اگر وضو باطل ہو جائے تو طواف چھوڑ کر وضو کرنا ضروری ہے اور پھر طواف کی گنتی کو مختلف اصولوں کے مطابق مکمل کرنا پڑتا ہے۔ گویا یہ نماز ہی کی طرح کا عمل ہؤا۔ اس دوران سیلفیاں اتارنے کی مثال میرے نزدیک ایسی ہی ہے گویا ایک ہاتھ باندھ کر نماز شروع کی جائے اور دوسرے ہاتھ میں موبائیل بلند کر کے نماز کے ارکان کی تصویر کشی کی جائے اور اس دوران نظر سکرین ہی کی جانب رہے کہ مبادا چہرہ فریم سے آؤٹ ہو جائے۔ نجانے کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے۔

البتہ جب عبادت سے فارغ ہو جائیں تو ضرور تصاویر آتاریں اور ان کو سرمایۂ حیات بنائیں۔ میں نے ارکان حج و عمرہ کے درمیان کبھی تصویر کشی نہیں کی لہٰذا ایسے افراد کی حالت کو فلمبند نہ کر سکا۔ مگر فارغ ہونے کے بعد حرم میں کئی جگہ لوگوں کی سیلفیاں بناتے یا تصاویر اترواتے ہؤے تصاویر لیں۔ میں نے سوچا کہ ان دلچسپ مناظر میں آپ کو بھی شریک کیا جائے لہٰذا حاضر ہیں مقدس سیلفیاں۰۰۰