آغا اکبر

آغا اکبر کی رحلت – بابر زمان

Baber Zaman

May 21 at 6:05 AM

وہ ہم نفس ہم سُخن ہمارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(حصّہء اول)

1۔ کافی عرصے سے گاہے گاہے فیس بک پر لاہور کی مال روڈ اور مُوڑا ٹی سٹال کا ذکر ہوتا رہتا ہے۔ میں نے اپنی کالج لٰائٖف کے آغاز سے ہی پنجاب اسمبلی ہال کے قرب میں واقع الفلاح بلڈنگ میں پاکستان نیشنل سنٹر میں جانا شروع کر دیا تھا۔ اس جگہ پر ایک لائبریری اور ہال تھا جسے مختلف قسم کی ادبی اور سماجی تقریبات کیلۓ استعمال کیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے مال روڈ کی محفلوں میں میری رسائی بہت آسان ہو گئی۔

ایوب خان کے آخری دور میں جب عوامی تحریک شروع ہوئی تو مال روڈ کی رونق بہت بڑھ گئی اور اس کے ریستوران، کیفے اور ٹی روم بھرے رہنے لگے۔
انہی حالات میں ریگل سینما کے قریب موڑا سٹال نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی۔

کئی ٹولیاں اور گروپ وہاں روز آ کر محفل جماتے تھے۔ 1971 کی جنگ اور حالات میں تبدیلی کے باعث مال روڈ اور مُوڑا ہوٹل کی رونق میں کمی آ گئی۔ ہماری محفل مختلف جگہوں پر لگتی رہی۔ ریستوران بند ہوتے رہے اور محفل بازی کے نۓ مراکز کھُلتے رہے۔ اس طرح ہم دوستوں کی کوئی نہ کوئی ٹھکانا ملتا رہا۔

2۔ 1978 میں پی ٹی یونینز ضیا مارشل لا کے ظلم کا شکار ہوئیں۔ ملک بھر میں ٹی وی یونینز پر پابندی لگا دی گئی اور ان کے عہدے داروں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ نہ صرف یہ، بلکی انہیں فوجی عدالتوں کی طرف سے کوڑوں کی سزائیں بھی سُنائی گئیں۔۔۔۔

مجھے تقریبآ اڑھائی سال تک پی ٹی وی لاہور ایمپلائیز یونین کا جنرل سیکریٹری رہنے کا اعزار حاصل رہا تھا۔ ان واقعات کے بعد ہم دوستوں نے مل کر ایک پی ٹی وی ایمپلائیز ڈیفنس کمیٹی بنا کر ان کارکنوں کی رہائی کے لیے کوششیں شروع کر دیں ۔ گرفتار شدگان کی حمائت کی وجہ سے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو ملازمتوں سے معطل کر دیا گیا تھا۔

میں بھی معطل ہونے والوں میں شامل تھا۔ چونکہ الزامات کا تعلق پرانے وقتوں میں ہونے والی جائز اور قانونی ٹریڈ یونین سرگرمیوں سے تھا، لاہور ہائی کورٹ نے ایک حکمِ امتناعی کے ذریعے پی ٹی وی انتظامیہ کو میرے خلاف مزید اقدامات سے روک دیا تھا۔

ایک سال بعد ہائی کورٹ نے میرے ساتھ چند اور ملازمین کی چارج شیٹیں اور معطلیان غیر قانونی قرار دے دیں اور فریقِ مخالف کی طرف سے اپیلوں کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا جو سترہ سال بعد ایک بار پھر ہمارے حق میں فیصلے پر مئنتج ہُوا۔

3۔ ہم لوگوں پر (اور خاص طور پر مُجھ پر) مارشل لا انتظامیہ کا شدید دباؤ تھا اور ان کا تقاضا تھا کہ ہم لوگ اجتماعی سرگرمیاں ترک کر دیں اور بیان بازی اور ٹی وی ملازمین کے لیۓ قانونی، سیاسی، انتظامی اور اخبارات کی سطح پر امداد کا سلسلہ روک دیں۔

دِن کے وقت ہم لوگ لاہور ٹی وی سٹیشن کے باہر اکھٹے ہوتے جہاں ملازمین ہم سے رابطہ کرکے انتقامی کاروائیوں کے بارے میں مشورہ اور قانونی امداد حاٖصل کرتے۔ یہ ہمارے دوستوں کے باہمی رابطے کا سلسلہ بھی تھا۔

میں دِن بھر میں ان کئی محفلوں میں شریک ہوتا اور یا پھر ہم لوگ ہائی کورٹ یا وکلا اور اخبارات کے دفاتر میں پاۓ جاتے۔

4۔ ان تم سرگرمیوں اور حرکتوں کے باوجود، میں اپنی مال روڈ والی قدیم محفل کا ایک کلیدی رکن بھی تھا جو ان ایام میں شام کو سیلُوز ریستوران میں منعقد ہوتی۔

اس محفل میں چند پرانے ارکان تھے اور بہت سے لوگ ایسے تھے جو کبھی کبھار آتے اور بعض اوقات کسی مہمان کو بھی ساتھ لے آتے جو عام طور پر کسی نہ کسی شعبے سے متعلق کوئی اہم اور قابلِ قدر شخصیت ہوتی تھی۔

5۔ پاکستاں نیشنل سنٹر کے ابتدائی زمانے سے میری دوستی ایک صاحب سے ہوئی جنہیں اس پوسٹ میں ‘دوست صاحب’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

یہ عمر میں مجھ سے تین سال بڑے تھے۔ گورنمنٹ کالج کے طالبعلم تھے اور شعر و ادب، اور سیاست اور علوم و فنون میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔

لیکن وہ ہماری سیلُوز ریستوران کی محفل کے باقاعدہ رکن نہیں تھے اور اپنا وقت باغوں اور بہاروں اور کھُلی فضا میں صرف کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔

وہ کبھی کبھار میری خیریت دریافت کرنے ٹی وی سنٹر تشریف لاتے تو ان کے ساتھ ایک اور نوجوان دوست بھی ہوتا تھا جس سے ان کی رشتہ داری بھی تھی۔

دوست صاحب بیرونِ ملک روانہ ہو گیے۔ وہ استنبول سے ہوتے ہُوۓ مشرقی یورپ کے ملکوں سے گُزرے اور بالآخر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پہنچ گیۓ۔

ان کے جانے کے بعد ان کے رشتہ دار نوجوان دوست میرے پاس آتے اور دوست صاحب کے انتہائی دلچسپ سفرنامہ قسم کے خطوط دکھاتے۔ اس طرح مجھے ان کی خیریت معلوم ہو جاتی اور ساتھ ہی انتہائی قیمتی معلومات بھی ملتیں۔

اس نوجوان دوست کا نام محمد اکبر خان تھا جو ایم اے انگلش کی تیاری کر رہے تھے۔

رفتہ رفتہ وہ ہماری مال روڈ والی محفل کے باقاعدہ اور فعال رکن بن گیۓ۔

(جاری ہے)
————————-

وہ ہجر کی رات کا ستارہ

(حصہ دوم)
۔
5۔ اکبر خان صاحب کے والد محترم غالبآ اردو ڈائجسٹ میں کام کرتے تھے اور ایک بڑے سکالر تھے۔ ان کی آبائی زبان فارسی تھی۔ مجھے اپنے طالب علمی کے زمانہء اسیری سے ہی غالب کی ‘لَت’ پڑ چُکی تھی ( یعنی – addiction- ہو گئی تھی)

آکبر خان صاحب اپنی فارسی دانی سے مجھے غالب کے اشعار سمجھنے میں مدد دیتے۔ اکثر ان پر مُجھ سے غالب، اقبال، فیض، ساحر اور دوسرے شاعروں کا کلام سُن کر سحر طاری ہو جاتا تھا۔ یہ بات ہماری ذاتی گہری دوستی کی بنیاد بھی بنی !

6۔ ایک مرتبہ میں نے محفل میں کسی کی تصحیح کرتے ہوۓ کہا کہ ایک مشہور مصرعے — ‘جو چیرا تو اِک قطرہء خُوں نہ نکلا’ — میں لفظ ‘نہ’ نہیں ہے اور ‘صحیح’ مکمل شعر یوں ہے :

بہت شور سُنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہء خُون نکلا

اس پر انہوں نے شدید اختلاف کیا اورہم دونوں میں شرط لگ گئی۔

چند روز بعد انہوں نے مجھے کہا کہ آپ شرط ہار گیے ہیں کیونکہ اصل شعر میں
‘خوں نہ نکلا’ ہی ہے۔

ثبوت میں انہوں نے اس غزل کے مطلع کا مصرعِہ اولٰیٰ سنایا :

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا

اس ایک مصرعے پر میں نے اپنی شکست تسلیم کر لی اور انہیں ڈھیروں داد دی۔
(بعد میں تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ صرف و نحو کے کسی گمنام قاعدے کی رُو سے ‘خون نہ’ کو بولنے میں زور دے کر — ‘ خونّ’ — پڑھا جاۓ گا۔)

سو، ہم بھی غلط نہیں تھے لیکن ہمارا علم خام اور نا مکمل تھا !

6۔ اسی طرح ایک مرتبہ میں نے محفل میں ذکر کیا کہ شنید کے مطابق میرے والد محترم کے ایک چچا کے ایک بیٹے کا نام علاالدین کلیم (اے ڈی کلیم) تھا جو گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر تھے۔ موصوف شاعر تھے اور ان کا جوانی میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔

چند روز بعد اکبر خان صاحب محفل میں نمودار ہووے۔ ان کے چہرے پر ایک خاص قسم کی مسکراہٹ تھی اور ہاتھ میں ایک رِسالہ قسم کی چیز جسے وہ ایسے تھامے ہوۓتھے ‘ کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے، تو چھپاۓ نہ بنےٍ’ !

کہنے لگے کہ یہ گورنمنٹ کالج لاہور کا کئی سال پرانا مجلہ ‘راوی’ ہے اس میں اے ڈی کلیم صاحب کی اک غزل چھپی ہے۔ سب دوست اس غزل سے لطف اندوز ہوۓ۔ اس کا ایک مصرع ابھی تک میرے ذہن میں محفوظ ہے :

میں نے ۔۔۔۔۔ کِشتِ دِل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خارِ آرزو ۔۔۔۔۔۔۔۔ بویا ہُوا ہے

(اے ڈی کلیم)

ان کے اعلی ذوق کے باعث اُنہیں ہماری محفل کے دیگر ارکان نے پذیرائی بخشی اور وقت کے ساتھ ان کا حلقہء احباب کافی وسیع ہو گیا۔

7۔ ٹی یونینز کے بحران کے بعد صحافیوں کی تحریک چلی اور ان کی بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں۔ پھر بھٹو کی پھانسی اور ان کے حامیوں پر تشدد کا سلسلہ چل نکلا۔ ملکی ماحول میں گھٹن بہت بڑھ گئی اور مارشل لا حکام ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ملک میں سے جمہوری قوتوں کا مرحلہ وار خاتمہ کرتے جا رہے تھے۔

8۔ انہی دونوں میں میرے چھوٹے بھائی جو انجینرنگ یونیورسٹی کے طالبعلم تھے، گردوں کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو گیۓ۔

اس چھ، سات ماہ کے عرصے میں، میں، حسبِ معمول، پی ٹی وی ایمپلائیز ڈیفنس کمیٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتا۔ کافی وقت ہائی کورٹ میں ملازمین کے مقدموں کی پیروی میں لگتا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میں ہسپتالوں میں اپنے بھائی کے علاج کا بند و بست کرتا جس میں ہیمو ڈیالیسِس – ( haemo-dialysis ) بھی شامل تھا جس کیلیۓ پورے پنجاب میں اس وقت غالبآ ایک ہی مشین تھی۔

بدقسمتی سے میرے نوجوان چھوٹے بھائی کا انتقال ہو گیا جِس سے خاندان پر کوہِ غم ٹُوٹ پڑا۔

9۔ انہی دنوں میں فوجی حکومت نے بھٹو دشمن سیاسی جماعتوں کے وزرا کو بھی کابینہ سے نکال دیا اور مارشل لا کی حامی جماعتوں سمیت سب سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی۔

مارشل لا کے ضابطوں کے تحت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پر فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں دخل اندازی پر پابندی عاید کر دی گئی اور بہت سے ناپسندیدہ جج نکال دیۓ گیۓ۔ ان میں وہ جج بھی شامل تھے جنہوں نے میری، اور دیگر ساتھیوں کی بحالی کا حکم دیا تھا۔۔

(جاری ہے۔ بقیہ حصہ سوم میں)
—————————————–

وہ ہجر کی رات کا ستارہ

( آغا اکبر کی رحلت – تیسری قسط)

10۔۔۔۔ مئی 1980 کے لگ بھگ جمہوریت کے خلاف کئی غیر معمولی سیاہ اقدامات کیۓ گیۓ۔
سیاسی جماعتوں پر پابندی اور فوجی عدالتوں کی بلا روک ٹوک دست درازیوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ لکھا جا چکا تھا۔ عام خیال تھا کہ یہ فیصلہ مارشل لا اور فوجی عدالتوں کے خلاف ہے۔

ان حالات میں مارشل لا حکام نے ریڈیو پر اعلان کرا دیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو فوری طور پر قائم مقام جج کے طور پر سپریم کورٹ میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ ہائی کورٹ کے نۓ قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر کر دیا گیا ہے۔

زبردستی ٹرانسفر شدہ چیف جسٹس (حکومت کے بہت بڑے کاسہ لیس مولوی مشتاق حسین) نے اپنا تبادلہ منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی دن علی الصبح فوجی کمانڈوز نے لاہور ہائی کورٹ میں نقب لگا کر مجوزہ فیصلہ ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی اور اس عمل میں ناکامی کے بعد انہوں نے چیف جسٹس کے گھر کا رُخ کیا۔
وہاں انہوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کے پردے گرا ڈالے اور فرنیچر وغیرہ کو الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا۔ ۔۔۔

یہ خبر گرم تھی کہ فوجی کمانڈوز وہ فیصلہ ( سناۓ جانے سے چند روز قبل) اپنے ساتھ لے گی تھے۔

نہ صرف چیف جسٹس صاحب کا ہائی کورٹ میں داخلہ ممنوع کر دیا گیا بلکہ ان کے گھر سے نکلنے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

مجھ ان واقعات کا اچھی طرح علم اس لیۓ ہُوا کہ میں اس دن پی ٹی وی کے ایک سابق کیمرہ مین کی سیاسی بنیادوں پر برطرفی کے خلاف درخواست کے سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ میں موجود تھا۔ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج صاحب، معتوب اور نظربند چیف جسٹس کا سامان (مثلا کتابیں اور گاؤن وغیرہ) سیلیکٹ کر کے ایک گاڑی میں رکھوا رہے تھے تا کہ ان کا دفتر نیۓ قائم مقام چیف جسٹس (شمیم حسین قادری) کے استعمال میں آ سکے ! اس موقع پر چند گز کے فاصلے پر تماشائیوں کا ایک چھوٹا سا ہجوم بھی جمع ہو گیا تھا جس میں، میں بھی شامل تھا۔

(یہاں مجھے مشہور سندھی شاعر شیخ ایاز کا ایک مصرع یاد آ رہا ہے :

‘ چھا رنگ ڈِٹھم ۔۔۔۔۔ راہگیرن جا’

(راہگیروں نے کیا نظارہ دیکھا ۔۔۔۔۔۔)

11۔ یہ سب قصہ سنانے کا مقصد اس سے بعد ہونے والے بعض واقعات کا ذکر کرنا ہے :

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے سیاسی جماعتوں پر پابندی اور فوجی عدالتوں کے خلاف ایک جلوس نکالا جس میں سو کے لگ بھگ لوگ شامل تھے۔

چونکہ پولیس نے مال روڈ پر جانے کے کئی راستے بند کر رکھے تھے، میں اپنی موٹر سائیکل پر چکر لگا کر ایک اور سمت (یعنی ناصر باغ ک طرف) سے وہاں آ گیا تھا۔

وکلا کا یہ جلوس بنک سکوائر کے قریب تھا جہاں پولیس نے انہیں روک رکھا تھا تاکہ وہ انارکلی جا کر تاجر برادری کو اپنے ساتھ نہ مِلا سکیں۔

جب وکلا آگے بڑھنے کی کوشش کرتے پولیس ان پر لاٹھیاں برساتی۔

جن وکیل صاحب نے ہماری درخواست کی سماعت کے دوران ہماری نمائندگی کی تھی —- وہ بھی اس جلوس میں موجود تھے اور میں نے دیکھا کہ پولیس کی لاٹھی کی ضربوں سے ان کے سر سے خون بہ کر چہرے سے گردن کی طرف جا رہا تھا۔

میں — بُت بنا —- کچھ دیر تک وہاں کھڑا ہو کر یہ افسوس ناک نظارہ دیکھتا رہا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ان چند لمحات کے دوران میں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس دن جب پی ٹی وی لاہور سنٹر کے باہر واقع ٹی سٹال پر ہمارا اجتماع ہوا تو میں نے اپنے کارکن ساتھیوں سے کہا :

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
‘اس ملک میں آمروں اور جمہوری قوتوں میں ایک کشمکش جاری تھی جس میں آج آمروں کو غلبہ حاٖصل ہو گیا ہے۔ اب یہاں امریت مضبوط ہو گئی ہے اور جمہوری قوتوں پر اور بھی برا وقت آنے والا ہے۔

جن لوگوں نے ہمیں انصاف دینا یا دلوانا تھا ان کے اپنے سروں سے تشدد کے باعث خون بہ رہا ہے۔ اس لیۓ اب ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں کی سکتی۔

لیکن ایک دن اس ملک میں جمہوریت ضرور بحال ہو گی اور آپ لوگ ضرور بحال ہوں گے۔ لیکن اس دورانی عرصے میں آپ لوگ کوئی نیا روزگار ڈھونڈ لیں۔ میں خود ملک چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔۔۔۔ ‘
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

12۔ ہمارے نوجوان دوست اکبر خاں صاحب جو بعد میں آغا اکبر کے قلمی نام سے مشہور ہوۓ، مجھ سے ان واقعات کے بارے میں سنتے اور تفصیلات بھی دریافت کرتے۔ اس کے علاوہ شاعری کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔

ان انتہائی مشکل اور حوصلہ شکن حالات میں آغا اکبر کی دوستی میرے لیۓ تقویت کا باعث تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس وجہ سے میں نے یہاں انہیں ‘ہجر کی رات کا ستارہ’ ، اور ‘وہ ہم نفس، ہم سخن ہمارا’ کہا ہے۔ اور ان کی لیۓ ناصر کاظمی کا شعر استعمال کیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(جاری ہے)
———————————————————–

ختمِ ملاقات کا وقت

(آغا اکبر کی رحلت – چوتھی قسط)

13۔ میں نے اپنی ذاتی کوشِشوں سے متعدد یورپی ملکوں کے ویزے حاصل کر لیۓ تھے۔ اُن دنوں انگلستان کا ویزہ نہیں ہوتا تھا اور ملک میں داخلے کا فیصلہ ایر پورٹ پر امیگریشن افسر کیا کرتا تھا۔ میں اس معاملے میں کوئی رِسک (خطرہ) لینے کے لیۓ تیار نہیں تھا۔

میرا فرانس جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ لیکن ایک گفتگو کے دوران انہوں نے مجھے قائل کر لیا کہ میرے لیۓ کم از کم وقتی طور پر فرانس جانا ہی صحیح راستہ ہے اور وہ اس لیۓ کو وہاں ہمارے مشترکہ دوست موجود ہیں جو اگرچہ خود غیر یقینی صورتِ حال سے دو چار ہیں لیکن پھر بھی ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

14۔ 21، اگست 1980 کی صبح کو آغا اکبر ایک ٹیکسی لے کر میرے گھر آۓ اور مجھے ایر پورٹ لے گئے۔

وہاں انہوں نے مری دو تصویریں بنائیں۔ ان تصویروں میں میرے چہرے پر شدید غم اور غصے کے جذبات نمایاں تھے۔ غم اس لیۓ کہ میرے چھوٹے بھائی کے بیماری کی وجہ سے وفات کا میرے والدین پر بڑا گہرا اثر ہوا تھا اور میں بھی انہیں چھوڑ کر جا رہا تھا۔ غصہ اس لیۓ کہ سیاسی ظلم و ستم کی وجہ سے ملک چھوڑنا جلا وطنی ہوتا ہے جو مجبوری کے باعث ایک غیر رضاکارانہ عمل ہوتا ہے۔

جمہوریت پر مبنی منصفانہ معاشرے کے قیام کے بارے میں ایک نسل کے خواب ۔۔۔۔۔ ہماری نسل کے خواب ۔۔۔۔۔ چکنا چُور ہو گیے تھے۔

جہاز پر روانگی کے لیۓ ایر پورٹ کے اندر جانا ضروری تھا ۔۔۔۔

جلا وطنی کے موقع پر آغا اکبر آخری شخص تھے جو میرے پاس تھے ۔اب ان سے بھی جُدا ہونا تھا ۔۔۔

یعنی یہ –‘ختمِ مُلاقات — کا وقت’ تھا۔ اور بقولِ فیض

‘ترکِ دنیا کا سماں ۔۔۔۔ ختمِ ملاقات کا وقت’

غالبآ شاعر کا مطلب یہ تھا کہ کسی عزیز دوست سے ہونے والی ملاقات کا خاتمہ ۔۔۔۔۔۔ تکلیف کی شدت کے باعث ترکِ دنیا کے مترادف ہوتا ہے ۔

آغا اکبر نے مجھ سے انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ گلے مِل کر اس ملاقات کا اختمام کیا۔

اور اس کے بعد انتہائی با دِلِ نا خواستہ اُٹھنے والے پہلے قدم کے ساتھ میری جلا وطنی کا آغاز ہُوا جو وقت کے ساتھ مستقل ترکِ وطن میں تبدیل ہو گئی۔

(جاری ہے)
(پانچویں اور آخری قسط جلد ملاحظہ فرمائیں)
————————————————————–

برگِ آخرِ شہرِ خزاں ۔۔۔۔

(آغا اکبر کی رحلت – پانچویں/آخری قسط)

15۔ آغا اکبر نے کئی سال تک فرانس میں مجھ سے بذریعہ خط و کتابت رابطہ قائم رکھا۔
ابتدا میں انہوں نے ایک کیسٹ پر ہماری محفل کے بعض انتہائی قابلِ احترام ارکان کی آواز میں ریکارڈ شدہ پیغامات بھیجے۔ ان میں سے ایک نے مغربی حسیناؤں کے حوالے سے (غالبآ) عبد الرحمٰن بجنوری کے کلام سے چند سطور ارسال کیں :

صنم فرنگ، قمر جبیں، بُتِ سِیم رنگ، غضب حسیں
وہ ہوا میں کاکُلِ عصفریں، کہ شہابِ ثاقبِ شب رواں

آغا اکبر نے مجھے احمد فراز کی مسلسل غزل ‘جاناں جاناںٍ’ اپنی آواز میں بھیجی۔ کمال ادائیگی تھی :
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اُڑتے ہُوۓ اوراقِ پریشاں جاناں

انہوں نے مجھے فیض احمد فیض اور پروین شاکر کی وفات پر بھی تفصیلی خطوط لِکھے جن میں ان کی خوبصورت شاعری کے حوالے دیۓ گیے تھے۔

ایک مرتبہ انہوں نے نوابزادہ نصراللہ خان کی ایک سیاسی نظم بھیجی :

اپنوں پہ جفا اور درِ غیر پہ سجدے
اے میرے وطن اب یہ نئی رسم چلی ہے
۔
ہم راہروِ دشتِ بلا روزِ ازل سے
اور قافلہ سالار حُسین ابنِ علی ہے

16۔ ایک نیۓ سال کے موقع پر میں نے دوستوں کو فیض کا ایک شعر ایک کارڈ پر لکھ کر بھیجا :

یہ دِل کے داغ تو دُکھتے تھے یُوں بھی پر کم کم
کُچھ اب کے اور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہجرانِ یار کا موسم

کچھ عرصہ بعد عید کے موقع پر اکبر خان صاحب نے اسی غزل کا یہ شعر بھیجا :

نصیب صُحبتِ یاراں نہیں تو کیا کیجیۓ
یہ رقصِ سایہ ء سرو و چنار کا موسم

17۔ میں آٹھ سال بعد، 1988 میں پہلی مرتبہ پاکستان آیا اور ان سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے مولانا حامد علی خان کا مرتب کردہ دیوانِ غالب کا ایک نسخہ پیش کیا اور کہا کہ یہ میں نے آپ کے لیۓ خاص طور پر کئی سال سے سنبھال کر رکھا ہے۔
مولانا حامد علی خان نے اس میں کہیں کہیں اپنی طرف سے وضاحتیں بھی درج کی ہیں۔ مثلآ ان کے بقول مندرجہ ذیل شعر میں غالب نے ‘نیرنگ نظر’ باندھا ہے نہ کہ ‘نیرنگِ نظر (زِیر کے ساتھ) :

سادگی ہاۓ تمنا یعنی
پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا

اور دیباچے میں انہوں غالب کے ایک شعر پر یوں گرہ لگائی ہے :

حامد کلامِ حضرتِ غالب کا ورد ہو
فُرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گَر مِلے

18۔ ان کے بقول صوفی غلام مصطفۓٰ تبسم کے ایک متمول سابقہ شاگرد نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے ہاتھ سے اپنی پسند کے ایک ہزار شعر لکھ کر دیں۔ صوفی تبسم نے ان کی درخواست مان لی۔ اس کتاب کا نام غالبآ ‘یک ہزار سخُن’ ہے۔

ڈائیری نُما اس کتاب کو محدود تعداد میں شائع کر کے اس کے نسخے چیدہ چیدہ لوگوں کو بطورِ تحفہ دیۓ گئے۔ کِسی طرح ایک نسخہ اکبر صاحب کے بھی ہاتھ لگ گیا جو انہوں نے از راہِ کرم مجھے فرانس میں ارسال کر دیا۔ مجھے اس میں صوفی تبسم کے اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ تین اشعار ابھی تک یاد ہیں :

سب کائنات فِکر سے آزاد ہو گئی
اِنساں مثالِ دستِ تہِ سنگ رہ گیا
(ظہیر کاشمیری)

اور

سُنتا ہُوں سر نگوں تھے فرشتے میرے حضور
میں جانے اپنی ذات کے کِس مرحلے میں تھا

(احسان دانش)

تیسرا شعر یہ ہے :

تمام عمر تری ہمرہی کا شوق رہا
مگر یہ رنج کہ میں موجہء صبا نہ ہُوا

(ظہیر کاشمیری)

18۔ جیسا کہ میں نے کسی پہلے نوٹ میں درج کیا ہے ہماری لاہور کے زمانے کی محفل سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ تھے۔ وقت کے ساتھ وہ محفل بھی نہ رہی ۔ کئی ارکان دوسری جگہوں پر چلے گیۓ اور کچھ اِس جہاں فانی سے ہی رخصت ہو گیۓ۔

ان سب میں قدرِ مشترک ایک دوسرے کا احترام اور لحاظ تھا۔ آغا اکبر وہ آخری شخس تھے جو اُس محفل میں شامل ہُوۓ تھے۔ اِس مناسبت سے مجھے فراز کا یہ شعر یاد آ گیا :

میں برگِ آخرِ شہرِ خزاں تھا، خاک ہُوا
کھُلا کہ موسمِ گُل کا سفیر میں بھی نہ تھا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حقیقت یہ ہے کہ کم از کم میرے لیۓ وہ موسمِ گُل کے پیام بر ہمیشہ ہی رہے۔

میں خُداۓ ذوالجلال کی بارگاہ میں ان کی مغفرت اور ان کے اہلِ خاندان کے لیۓ صبر اور حوصلے کیلۓ دُعا گو ہُوں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مولانا حالی نے کہا تھا :
آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

پانچ قسطوں پر مشتمل اس تعزیتی تحریر کو پڑھنے اور اس پر کمنٹس کرنے والے احباب کا خلوص دیکھ کر لگتا ہے کہ فیس بک پر بھائی کم اور دوست زیادہ ہیں۔

میں آپ سب کا تہِ دِل سے مشکور ہُوں اور آپ کی زندگی اور صحت کیلیے دُعا گو ہُوں۔

آپ کی توجہ کا شکریہ !

بابر زمان
Baber Zaman
24 مئی 2019