بابر زمان

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

Baber Zaman

آئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ اُٹھائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم بھی
ہم ۔۔۔۔۔۔۔ جِنہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ رسمِ دُعا ۔۔۔ یاد نہیں
۔
آئیے ۔۔۔۔ عرض گزاریں ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔ نگارِ ہستی
زہر امروز میں ۔۔۔۔۔۔۔ شیرینیِ فردا ۔۔۔۔۔۔۔۔بھردے
.
وہ ۔۔۔۔ جنہیں ۔۔۔۔۔۔ تابِ ۔۔۔۔۔۔ گراں باریِ ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ ۔۔۔۔۔۔ شب و روز کو ہلکا کردے
.
جن کی آنکھوں کو ۔۔۔۔۔۔ رخِ صبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی شمع منور کردے
.
جن کے قدموں کو ۔۔۔۔۔۔۔ کسی رہ کا سہارا بھی نہیں
ان کی نظروں پہ ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی راہ ۔۔۔۔۔۔۔اجاگر کردے
۔
(فیض احمد فیض)

_
شاعرِ رنگیں نوا ہے ۔۔۔۔۔ دِیدہء بیدارِ قوم
(اقبال)
۔
فیض احمد فیض کے ان چند اشعار پر دوستوں نے مختصر مگر خوبصورت اور جامع تبصرے کیۓہیں جن کے لیۓ میں ان کا مشکور ہوں۔
یہ نظم بلا شبہ انتہائی خوبصورت ہے۔
یہ غالباً 1972 کے موسمِ گرما کا واقعہ ہے۔ بھٹو کو اقتدار میں آۓ ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔

1971 کی جنگ کے آثرات ابھی تازہ تھے۔ مغربی بارڈر پر دونوں ملکوں کی فوجیں مکمل الرٹ کی حالت میں تھیں۔۔

آمریکی صدر نکسن اور سوویت صدر برزنیف کے دباؤ کے باعث اندرا گاندھی کو مذاکرات پر با دِلِ نا خواستہ آمادہ ہونا پڑا تھا۔

انہوں نے اپنے انتہائی قابلِ اعتماد معاونِ خصوصی ڈی پی دَھر ۔ ( D.P. Dhar ) ۔ کو دونوں ملکوں میں ابتدائی رابطہ استوار کرنے کی لیۓ پاکستان بھیجا۔

دَھر صاحب – ( Dhar Sb ) – ابھی کچھ عرصہ پہلے تک بھارتی سول سروس میں ایک اعلٰیٰ عہدے فایز تھے۔ ان کی سبکدوشی کے بعد اندرا گاندھی نے انہیں اپنی کابینہ میں ایک جونیر وزیر مقرر کیا تھا۔ (مجھے یاد نہیں کہ یہ واقعہ ان کی بطور وزیرتقرری سے پہلے کا ہے یا بعد کا)۔

ان کی اسلام آباد میں آمد میڈیا کے لیۓ ایک اہم واقعہ تھا۔ کسی محفل یا تقریب میں اخباری نمائندوں نے اُن سے کچھ سوال کرنا چاہے تو وہ یوں گویا ہُوۓ :

۔
دوملکوں کے درمیان یہ پہلا رابطہ ہے۔ (آنے والی) کل میں پاکستانی عہدے داروں سے میری ملاقاتیں طے ہیں۔ اس لیۓ آج میں اس موضوع پر کُچھ نہیں کہ سکتا۔

البتہ میں آپ کو یہ بتا سکتا ہُوں کہ پاکستان میں آمد کے بعد میں مری ہِل اسٹیشن گیا۔ وہاں چہل قدمی کے دوران کتابوں کی ایک دکان میں جانے کا اتفاق ہوا اور میں نے فیض صاحب کی نئی کتاب ‘سرِ وادیِ سینا’ خریدی۔

اس کتاب کی ورق گرادنی کرتے ہُوۓ میری نظر ایک نظم پر پڑی جس کے یہ شعر مجھے بہت پسند آۓ :

آئیۓ، ہاتھ اُٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسمِ دُعا یاد نہیں
ہم جئہیں سوزِ محبت کے سِوا
کوئی بُت، کوئی خُدا یاد نہیں
۔
آئیے، عرض گُزاریں کہ نِگارِ ہستی !
زہرِ امروز میں شیرینیِ فردا بھر دے !
۔

ملک بھر کے اخباروں نے یہ اشعار چھاپے اور ان پر زیادہ تر پُر تحسین تبصرے بھی کیۓ۔

فیض احمد فیض پاکستانی سرکاری مشینری کے دیرتک معتوب رہے اور اس کے بعد بھی نوکر شاہی کے عتاب کے خوف کی وجہ سے ان کی خاطر خواہ پزیرائی ممکن نہ تھی۔ بھٹو پہلے شخص تھے جنہوں نے انہیں وزارتِ ثقافت میں مشیر مقرر کیا تھا۔ یہ عہدہ غالبآ وزیرِ مملکت کے برابر تھا۔
وہ اس عہدے پر تقریبآ پانچ سال تک فائز رہے۔۔۔ ۔

اس سے پہلے 1964 میں مصطفےٰ زیدی نے ضلع ساہیوال (جو اُس وقت ضلع منٹگمری کہلاتا تھا)، میں ڈپٹی کمشنر کے طور پر اپنی تعیناتی کے دوران فیض احمد فیض کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی تھی۔ روزنامہ مشرق لاہور نے اس تقریب کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جِس میں فیض کے کلام سے انتخاب دیا گیا تھا۔

میں اس وقت ہائی سکول میں پڑھتا تھا۔ روزنامہ مشرق کی اس رپورٹ کے باعث زندگی میں پہلی بار میرا فیض کے نام سے تعارف ہوا اور اس وقت پڑھے ہوے کئی اشعار ابھی تک قدرے گڈ مڈ ہو کر میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔

مصطفے زیدی نے اپنے بحران کے دور میں، ملک اور معاشرے کیلۓ اپنی خدمات میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان کا یہ اقدام (یعنی فیض صاحب کی عزت افزائی کرنا)، سرکاری حلقوں میں معیوب گردانا گیا تھا۔

ڈی پی دھر- ( D.P.Dhar) – نے گولہ بارود کی بُو اور جنگ و جدل کے اس مکّدر ماحول میں اس نظم کا حوالہ دے کر اسے آفاقی رنگ عطا کیا۔

فیض کا ارشاد تھا ؛

بہت گراں ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ عیشِ تنہا ۔۔۔۔۔ کہیں سُبک تر، کہیں گوارا
وہ دردِ پنہاں، کہ ساری دنیا، رفیق تھی، جِس کے واسطے سے

ڈی پی دھر صاحب نے اپنے شعری انتخاب سے ظاہر کیا کہ وہ ایک ادب دوست اور اعلیٰ ذوق کے حامل شخص تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والے، حساس انسان بھی تھے۔

اگر فیض کے بعد یہ اشعار کسی کے نام منسوب کیۓ جا سکتے ہیں توہ وہ ڈی پی دھر ہیں۔

فیض نے کہا تھا :
ہو نہ ہو، اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہو گا، اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر
۔

میں ان ایام کی یاد میں، مندرجہ ذیل سطور ڈی پی دھر اور ان کی قبیل کے تمام افراد کے نام کرتا ہُوں :
۔
گھول کر ۔۔۔۔ تلخیِ دِیروز میں ۔۔۔۔۔ امروز کا زہر
حسرتِ روزِ ملاقات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رقم کی ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے
دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام
حسنِ آفاق ۔۔۔۔۔۔۔ جمالِ لب و رخسار کے نام !

آپ کی توجہ کا شکریہ !
بابر زمان
18 مئی 2019

2 تبصرے “آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

تبصرے بند ہیں